آیت 8
 

وَ مَا جَعَلۡنٰہُمۡ جَسَدًا لَّا یَاۡکُلُوۡنَ الطَّعَامَ وَ مَا کَانُوۡا خٰلِدِیۡنَ﴿۸﴾

۸۔ اور ہم نے انہیں ایسے جسم نہیں بنایا جو کھانا نہ کھاتے ہوں اور نہ ہی وہ ہمیشہ (زندہ) رہنے والے تھے۔

تفسیر آیات

یہ رد ہے مشرکین کے اس اعتراض کی: مَالِ ہٰذَا الرَّسُوۡلِ یَاۡکُلُ الطَّعَامَ ۔ (۲۵ فرقان: ۷)

ہم نے انبیاء علیہم السلام کو ایسے جسد کا مالک نہیں بنایا جو طعام کا محتاج نہ ہو۔ یعنی ایسا کوئی زندہ جسم نہیں بنایا جو تحلیل نہ ہوتا ہو اور تدارک کے لیے طعام کا محتاج نہ ہو۔

وَ مَا کَانُوۡا خٰلِدِیۡنَ: اگر کوئی زندہ جسم تحلیل نہ ہوتا تو اسے خلود حاصل ہوتا اور موت نہ آتی۔ لہٰذا جس طرح جسم کے اجزاء (Cell) کی ایک عمر ہے۔ اسی طرح جسم و جان کے مجموعہ انسان کی بھی، خواہ وہ نبی ہی کیوں نہ ہو، ایک عمر معین ہے۔

نبی کے جسم کے تحلیل ہونے اور اس جسم میں موجود روح پر وحی نازل ہونے میں کوئی منافات نہیں ہے۔

اہم نکات

۱۔ ہر ذی روح کا محتاج ہونا اس ذات کے وجود کی دلیل ہے، لوگ جس کے محتاج ہیں۔


آیت 8